قرض دار

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ادھار لینے والا، مقروض۔ "منیجر سر پر آکر یوں کھڑا ہو گیا تھا جیسے وہ اس کا قرض دار تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، تیسرا آدمی، ٢٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قرض' کے ساتھ فارسی مصدر 'داشتن' سے مشتق صیغہ امر 'دار' بطور لاحقہ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٦٩٩ء میں شاہ عنایت کے "نورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ادھار لینے والا، مقروض۔ "منیجر سر پر آکر یوں کھڑا ہو گیا تھا جیسے وہ اس کا قرض دار تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، تیسرا آدمی، ٢٨ )